ہفتہ 27 جون 2026 - 02:26
سرینگر میں جلوس عاشوراء:واقعۂ عاشورا تاریخ اسلام کا عظیم سانحہ اور حق، عدل، آزادی اور ظلم و جبر کے خلاف دائمی استقامت، مولانا سید مجتبیٰ موسوی

حوزہ/سرینگر جموں وکشمیر میں یومِ عاشوراء کا روایتی جلوس ذوالجناح، امام بارگاہ گلشن باغ سے برآمد ہوا اور گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول کے احاطے میں ہزاروں عزاداروں نے باجماعت نماز ظہرین ادا کرنے کے بعد جلوس دوبارہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہوا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جلوس عاشوراء کے اجتماع سے خطاب میں حجت الاسلام مولانا سید مجتبیٰ عباس موسوی نے حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کی بے مثال قربانیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ واقعۂ عاشورا تاریخ اسلام کا سب سے عظیم سانحہ اور حق، عدل، آزادی اور ظلم و جبر کے خلاف دائمی استقامت کی روشن ترین علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے اہل بیتؑ اور وفادار اصحابؑ کے ہمراہ دین اسلام، انسانیت، عزت، وقار اور اعلیٰ انسانی اقدار کے تحفظ کے لیے ہر قربانی پیش کی، جبکہ محرم الحرام کی مجالس اور عزاداری کا سلسلہ آج بھی پیغام کربلا کو نسل در نسل منتقل کر رہا ہے۔

سرینگر میں جلوس عاشوراء:واقعۂ عاشورا تاریخ اسلام کا عظیم سانحہ اور حق، عدل، آزادی اور ظلم و جبر کے خلاف دائمی استقامت، مولانا سید مجتبیٰ موسوی

انہوں نے عاشوراء کے جلوس کے پُرامن انعقاد کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سڑکوں کی مرمت، پینے کے پانی، بجلی، صفائی، ٹریفک نظم و نسق، سیکورٹی اور دیگر شہری سہولیات کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ برسوں میں ان انتظامات کو مزید بہتر بنایا جائے گا، تاکہ عزاداروں کی توقعات کے مطابق سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

اس موقع پر مولانا سید مجتبیٰ عباس موسوی نے لیفٹیننٹ گورنر کی سربراہی والی انتظامیہ کی جانب سے تاریخی متحدہ جلوس عاشورا کو اس کے صدیوں پرانے روایتی راستے آبی گزر، لال چوک سے علی پارک، زڈی بل تک بحال نہ کیے جانے پر گہرے افسوس اور مایوسی کا اظہار کیا۔

سرینگر میں جلوس عاشوراء:واقعۂ عاشورا تاریخ اسلام کا عظیم سانحہ اور حق، عدل، آزادی اور ظلم و جبر کے خلاف دائمی استقامت، مولانا سید مجتبیٰ موسوی

انہوں نے کہا کہ متعدد بار مطالبات اور پُرامن اپیلوں کے باوجود اس تاریخی جلوس کو اجازت نہ دینا ہزاروں عزاداروں کے مذہبی جذبات کو شدید مجروح کرنے کے مترادف ہے اور یہ معاملہ آج بھی انتہائی تشویش کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخی متحدہ جلوس عاشوراء محض ایک مذہبی اجتماع نہیں، بلکہ کشمیر کی مشترکہ تہذیب، باہمی اخوت، مذہبی رواداری اور صدیوں پر محیط ہم آہنگی کی زندہ علامت ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں اس جلوس کے ساتھ مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد، جن میں سنی مسلمان، کشمیری پنڈت اور سکھ برادری بھی شامل تھی، بھرپور انداز میں وابستہ رہتے تھے، جس کے باعث یہ جلوس کشمیر کی مشترکہ تہذیبی شناخت اور گنگا جمنی تہذیب کا عملی مظہر بن چکا تھا۔

سرینگر میں جلوس عاشوراء:واقعۂ عاشورا تاریخ اسلام کا عظیم سانحہ اور حق، عدل، آزادی اور ظلم و جبر کے خلاف دائمی استقامت، مولانا سید مجتبیٰ موسوی

مولانا سید مجتبیٰ عباس موسوی نے کہا کہ جن حالات کو ماضی میں اس تاریخی جلوس پر پابندی کا جواز بنایا جاتا تھا، وہ اب موجود نہیں رہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں بھی تاریخی عاشوراء جلوس کو اس کے اصل روایتی راستے پر بحال نہ کرنا زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا اور اس فیصلے کے نتیجے میں عزاداروں کو ایک ایسے مذہبی حق سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے جو جموں و کشمیر کی تاریخی، مذہبی اور تہذیبی شناخت کا ایک لازمی جزو ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ معاملہ کسی مخصوص مکتبۂ فکر تک محدود نہیں، بلکہ مذہبی آزادی، مساوی حقوق، آئینی انصاف اور کشمیر کے صدیوں پرانے مذہبی و ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق ہے۔

سرینگر میں جلوس عاشوراء:واقعۂ عاشورا تاریخ اسلام کا عظیم سانحہ اور حق، عدل، آزادی اور ظلم و جبر کے خلاف دائمی استقامت، مولانا سید مجتبیٰ موسوی

سید مجتبیٰ موسوی نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ انصاف، آئینی اقدار اور عوامی اعتماد کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور آئندہ برسوں میں تاریخی آبی گزر جلوس عاشورا کو اس کے اصل روایتی راستے پر بحال کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا فیصلہ نہ صرف ہزاروں عزاداروں کے مذہبی جذبات کا احترام ہوگا بلکہ کشمیر کی تاریخی شناخت، مشترکہ تہذیب، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، باہمی رواداری اور پرامن بقائے باہمی کی روایات کو بھی مزید مستحکم کرے گا۔

مولانا سید مجتبیٰ عباس موسوی نے واقعۂ کربلا کی روحانی عظمت پر روشنی ڈالتے ہوئے زیارت عاشورا اور قرآن مجید کے حوالے پیش کیے اور کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت ایسا عظیم سانحہ تھا جس سے آسمان و زمین لرز اٹھے۔

سرینگر میں جلوس عاشوراء:واقعۂ عاشورا تاریخ اسلام کا عظیم سانحہ اور حق، عدل، آزادی اور ظلم و جبر کے خلاف دائمی استقامت، مولانا سید مجتبیٰ موسوی

انہوں نے کہا کہ اسلامی روایات کے مطابق فرشتوں، انبیائے کرامؑ اور تمام مخلوقات نے اس عظیم مصیبت پر سوگ منایا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو یہ بشارت دی کہ اس خون ناحق کا کامل انتقام حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے ذریعے لیا جائے گا اور عدل الٰہی کا قیام عمل میں آئے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حضرت محمد مصطفیٰ ؐ کا غم کربلا اپنی مثال آپ تھا۔ انہوں نے تاریخی روایات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کو بذریعہ الہام واقعۂ کربلا کا مشاہدہ کرایا گیا، جبکہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اہل بیت اطہارؑ پر ڈھائے گئے مظالم، بالخصوص حضرت علی اصغر علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت کا غم پوری زندگی اپنے دل میں سنبھالے رکھا۔

انہوں نے قرآن مجید میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے حضرت یوسف علیہ السلام پر گریہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کی قرآنی دلیل ہے کہ اللہ کے برگزیدہ بندوں پر اظہار غم اور سوگواری ایک مشروع اور مقدس عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام پر عزاداری قرآن، سنت انبیاءؑ اور تعلیمات اہل بیتؑ سے ثابت ہے، اور آج بھی حضرت امام مہدی علیہ السلام، انبیائے کرامؑ اور ملائکہ واقعۂ کربلا پر سوگوار ہیں۔

سرینگر میں جلوس عاشوراء:واقعۂ عاشورا تاریخ اسلام کا عظیم سانحہ اور حق، عدل، آزادی اور ظلم و جبر کے خلاف دائمی استقامت، مولانا سید مجتبیٰ موسوی

اپنے خطاب کے اختتام پر حجت الاسلام سید مجتبیٰ عباس موسوی نے مؤمنین پر زور دیا کہ وہ قرآن مجید اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کی تعلیمات کے مطابق خلوص، استقامت، نظم و ضبط اور شعور کے ساتھ عزاداری کے سلسلے کو جاری رکھیں، کیونکہ پیغام کربلا رہتی دنیا تک انسانیت کو حق، انصاف، آزادی، عزت نفس اور ثابت قدم ایمان کی راہ پر گامزن کرتا رہے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha